اے آئی سے متعلق نئے یورپی قوانین باقی دنیا کے لیے بھی مثال
21 مئی 2024یورپی یونین کے رکن ممالک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کے حوالے سے گزشتہ دسمبر میں طے پانے والے ایک معاہدے کی آج بروز منگل توثیق کر دی ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے متعارف کروایا جانے والا یہ اے آئی ایکٹ امریکہ کی طرف سے متعارف کروائے جانے والے ایکٹ سے بھی زیادہ جامع ہے۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال اب کاروبار اور روزمرہ زندگی سے وابستہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے جبکہ امریکہ اور چین جیسے ممالک اس ٹیکنالوجی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں سماجی استحکام اور ریاستی کنٹرول لازمی ہے اور اسی مقصد کے لیے یورپی یونین نے یہ قوانین متعارف کروائے ہیں۔
اے آئی قانون سازی کے حوالے سے سب سے پہلا مسودہ یورپی کمیشن نے سن 2021 میں تیار کیا تھا۔ پھر اس میں متعدد تبدیلیاں لائی گئیں اور دو ماہ قبل یورپی قانون سازوں نے اسے منظور کیا۔ آج یورپی یونین نے کے رکن ممالک نے اس کی توثیق کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی یہ قوانین اگلے ماہ سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔
’جنریٹیو اے آئی‘، جاپانی وزیر اعظم نے قواعد کے لیے فریم ورک متعارف کرا دیا
حالیہ کچھ عرصے کے دوران مائیکروسافٹ کے حمایت یافتہ چیٹ جی پی ٹی اور گوگل کے چیٹ بوٹ جیمنی جیسے جنریٹو اے آئی سسٹمز کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح عالمی سطح پر غلط معلومات، جعلی خبروں اور کاپی رائٹ والے مواد میں اے آئی کے استعمال کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
بیلجیم میں ڈیجیٹلائزیشن کے وزیر میتھیو میشیل نے ایک بیان میں کہا، ''دنیا میں اپنی نوعیت کے یہ پہلے اور تاریخی قوانین ہیں، جو ایک عالمی تکنیکی چیلنج کو حل کرتے ہیں۔ ان سے ہمارے معاشروں اور معیشتوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ایکٹ کے ساتھ یورپ نے نئی ٹیکنالوجیز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اعتماد، شفافیت اور جوابدہی کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
ا ا / ع ت (روئٹرز، ڈی پی اے)